ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / عدالت کی توہین اورماحول بگاڑنے کی کوشش شرمناک ، عدالت کوچیلنج کرناجمہوریت کے لیے خطرناک؛ حالیہ واقعات سے ملی کونسل کو سخت تشویش

عدالت کی توہین اورماحول بگاڑنے کی کوشش شرمناک ، عدالت کوچیلنج کرناجمہوریت کے لیے خطرناک؛ حالیہ واقعات سے ملی کونسل کو سخت تشویش

Thu, 15 Nov 2018 01:32:45    S.O. News Service

نئی دہلی:14/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عدلیہ کا احترام ،اس کا وقار اور اس کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ہر شہری کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے لیکن یہ بات انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے کہ ملک کا ایک طبقہ عدلیہ کی بات ماننے کے بجائے اسے ہی چیلنج کررہا ہے اور اس کے خلاف منظم انداز میں عوام کو اکسانے کی جدوجہد جاری ہے جو ملک کی سلامتی ،آئین اور عدلیہ کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہاکہ جولوگ ہر وقت حب الوطنی کا دعوی کرتے ہیں ۔سپریم کورٹ کے احترام کی بات کرتے ہیں آج وہی سپریم کورٹ کی بات ماننے سے مسلسل انکار کررہے ہیں ۔عدلیہ کو دھمکا رہے ہیں ۔اس کے خلاف ملک میں جنگ کا ماحول پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں جو براہ راست ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اور آئین کے خلاف بغاوت ہے ۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ بابری مسجد کا مسئلہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے مسلمان شروع سے کہتے ہوئے آرہے ہیں کہ ہمیں عدلیہ پر بھروسہ ہے لیکن دوسرا فریق یہ کہنے کے بجائے عدلیہ پر جلد سماعت کرنے کااور اپنے حق میں فیصلہ دینے کا دباؤ بنارہاہے ،کبھی وہ آرڈیننس لانے تو کبھی پارلیمنٹ میں بل پاس کرنے کی بات کررہاہے ۔زیر سماعت ہونے کے باوجود آر ایس ایس کے ایک ایم پی نے پرائیوٹ بل پیش کرنے کی بات کی ہے جو براہ راست عدلیہ کی توہین ہے ۔

اسی طرح خواتین کو جنسی مساوات فراہم کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سبریمالہ مندر میں انہیں جانے کا حق دیا لیکن یہاں بھی بی جے پی کے صدر سمیت کئی لیڈر براہ راست اس کی مخالفت کرتے ہوئے عدلیہ کو ایسے فیصلے سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔مسلم خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے وزیر اعظم مودی ہندوخواتین کو یکساں حق دینے کے سلسلے میں خاموش ہیں ۔ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں جس طرح عدلیہ کے خلاف ملک میں  ماحول پید ا کررہی ہے ۔فضاء کو خراب کررہی ہے اور میڈیا اس کھیل میں ان کا بھر پور ساتھ دے رہا ہے وہ ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ اور شرمناک ہے ۔سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ توہین عدالت کے تحت ایسے لوگوں کے خلاف ایکشن لے اور انہیں عدلیہ کے خلاف جانے سے روکے ۔کیوں کہ ہندوستان میں عدلیہ ہی انصاف کی آخری آماجگاہے ۔تمام اقلیتوں کو اس پر بھروسہ اوراعتماد ہے ۔


Share: